Sahih Muslim
1542.01

امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد ( کھجور کے تازہ ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے

1542.02

محمد بن بشیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور ( خوشیوں میں ) گندم کی کھیتی کو ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے

1542.03

ابن ابی زائدہ نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی

1542.04

ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے ( تازہ ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر ( اسی طرح ) فروخت کرنے سے منع فرمایا

1542.05

اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر جو پھل لگا ہوا ہے اسے ماپ کی مقررہ مقدار کے ساتھ خشک کھجور کے عوض بیچا جائے کہ اگر بڑھ گیا تو میرا اور اگر کم ہو گیا تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہو گی

1542.06

حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی

1542.07

قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ( مزابنہ یہ ہے ) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب ( سودوں ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ کی روایت میں ( وان كان زرعا "" اور اگر کھیتی ہو "" کے بجائے ) "" یا کھیتی ہو "" کے الفاظ ہیں ۔

1542.08

یونس ، ضحاک اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ ان ( عبیداللہ ، ایوب اور لیث ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی