Sahih Muslim
1492.01

سہل بن سعد ساعدی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے عویمر عجلانی ، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آیا اور ان سے کہا اے عاصم! بھلا اگر کوئی شخص اپنی جورو کیس اتھ کسی مرد کو دیکھے کیا اس کو مار ڈالے ، پھر تم اس کو مار ڈالو گے یا وہ کیا کرے؟ تو یہ مسئلہ پوچھو میرے واسطے رسول اﷲ ﷺ سے ۔ عاصم رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا آپ نے اس قسم کے سوالوں کو ناپسند کیا اور ان کی برائی بیان کی ۔ عاصمؓ نے جو رسول اﷲ ﷺ سے سنا وہ ان کو شاق گزرا ۔ جب وہ اپنے لوگوں میں لوٹ کر آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا اے عاصمؓ! جناب رسول اﷲ ﷺ نے کیا فرمایا؟ عاصمؓ نے عویمرؓ سے کہا تو میرے اچھی چیز نہیں لایا ۔ رسول اﷲ ﷺ کو تیرا مسئلہ پوچھنا ناگوار ہوا ۔ عویمرؓ نے کہا قسم خدا کی میں تو باز نہ آؤں گا جب تک یہ مسئلہ آپ سے نہ پوچھوں گا ۔ پھر عویمرؓ آیا رسول اﷲ ﷺ کے پاس تمام لوگوں میں اور عرض کیا یارسول اﷲ! آپ کیا فرماتے ہیں اگرکوئی شخص اپنی بی بی کے پاس غیر مرد کو دیکھے اس کو مار ڈالے ، پھر آپ اس کو مار ڈالیں گے ( اس کے قصاص میں ) وہ کیا کرے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے او رتیری جورو کے باب میں اﷲ کا حکم اُترا ( یعنی آیت لعان کی ) تو جا او راپنی جورو کو لے کر آ ۔ سہلؓ نے کہا پھر دونوں میاں بیبی نے لعان کیا او رمیں لوگوں کے ساتھ رسول اﷲ ﷺ کے پاس موجود تھا جب وہ فارغ ہوئے تو عویمرؓ نے کہا یا رسول اﷲ اگر میں اس عورت کو اب رکھوں تو میں جھوٹا ہوں پھر عویمرؓ نے اس کو تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ رسول اﷲ ﷺ اس کو حکم کرتے ابن شہاب نے کہا پھر لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ٹھہرگیا ۔

1492.02

سہل بن سعدؓ سے روایت ہے عویمر انصاریؓ جو بنی عجلان میں سے تھا عاصم بن عدیؓ کے پاس آیا پھر بیان کیا حدیث کو اخیر تک اسی طرح جیسے اوپر گزری اور حدیث میں ابن شہاب کا قول بھی شریک کردیاکہ پھر جدائی مرد کو عورت سے سنت ہوگئی لعان کرنے والوں میں اور اتنا زیادہ کیا کہ سہل نے کہا وہ عورت حاملہ تھی اس کے بیٹے کو ماں کی طرف نسبت کرکے پکارتے پھر یہ طریقہ جاری ہوا کہ ایسا لڑکا اپنی ماں کا وارث ہوگا اور وہ اس کی وارث ہوگی اپنے حصہ کے موافق ۔

1492.03

ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا متاعنین کا حال او ران کا طریقہ سہل بن سعدؓ کی حدیث سے جو بنی ساعدہ میں سے تھا اس نے کہا انصار میں سے ایک شخص رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر کوئی شخص اپنی جورو کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے اور بیان کیا سارا قصہ حدیث کا اور اتنا زیادہ کیا کہ پھر دونوں نے لعان کیا مسجد کے اندر اور میں موجود تھا اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس شخص نے طلاق دی تین بار اپنی عورت کو رسول اﷲ ﷺ کے حکم کرنے سے پہلے پھر وہ جدا ہوگیا اس سے آپ کے سامنے آپ نے فرمایا یہی جدائی ہے درمیان لعان کرنے والوں کے ۔