سفیان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا ، آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور بتایا کہ اس نے انصار کی ایک عورت سے نکاح ( طے ) کیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سےفرمایا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جاؤ اور اسے دیکھ لو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔
مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے ابوحازم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا : میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : " کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔ " اس نے جواب دیا : میں نے اسے دیکھا ہے ۔ آپ نے پوچھا : " کتنے مہر پر تم نے اِس سے نکاح کیا ہے؟ " اس نے جواب دیا : چار اوقیہ پر ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " چار اوقیہ چاندی پر؟ گویا تم اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراشتے ہو! تمہیں دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ موجود نہیں ، البتہ جلد ہی ہم تمہیں ایک لشکر میں بھیج دیں گے تمہیں اس سے ( غنیمت کا حصہ ) مل جائے گا ۔ " کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبس کی جانب ایک لشکر روانہ کیا ( تو ) اس آدمی کو بھی اس میں بھیج دیا