Sahih Muslim
1337

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فر ما یا : " لوگو!تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو ۔ ایک آدمی نے کہا : کیا ہر سال ؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ کملہ تین بار دہرا یا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر میں کہہ دیتا : ہاں تو واجب ہو جا تا اور تم ( اس کی ) استطاعت نہ رکھتے ۔ پھر آپ نے فر ما یا : " تم مجھے اسی ( بات ) پر رہنے دیا کرو جس پر میں تمھیں چھوڑدوں تم سے پہلے لو گ کثرت سوال اور اپنے انبیاءؑ سے زیادہ اختلا ف کی بنا پر ہلا ک ہو ئے ۔ جب میں تمھیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اسے کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔

1337.02

یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے خبر دی ، ان دونوں نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا ، "" میں جس کام سے تمھیں روکوں اس سے اجتناب کرو اور جس کا م کا حکم دوں ، اپنی استطاعت کے مطا بق اس کو کرو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو سوالات کی کثرت اور اپنے انبیاء علیہ السلام سے اختلا ف نے ہلا ک کردیا ۔

1337.03

یزید بن ہاد نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی کے مانند روایت کی ۔

1337.04

ابو صالح ، اعرج ، محمد بن زیاد اور ہمام بن منبہ ، سب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ( آپ نے فرمایا : ) " جب تک میں تمھیں چھوڑ رکھوں ( کو ئی حکم نہ دوں ) تم بھی مجھے چھوڑ ے رکھو ( خواہ مخواہ کے سوال مت کرو ) " اور ہمام کی حدیث میں ہے ۔ " جب تک تمھیں چھوڑ دیا جا ئے ، کیونکہ وہ لو گ جو تم سے پہلے تھے ( کثرت سوال سے ) ہلا ک ہو گئے ۔ پھر انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ سے زہری کی حدیث کی طرح ( آگے ) بیان کیا ۔