ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو معبد نے ( عبد اللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انھیں تلقین کی : سکون سے ( چلو ) "" اور آپ اپنی اونٹنی کو ( تیز چلنے سے ) روکے ہو ئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فرما یا : "" تم ( دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر ) ماری جا نے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کورمی کی جا ئے گی ۔ "" ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے رہے ۔
Sahih MuslimHadith 1282 (2 narrations)
1282.01
1282.02
ابن جریج سے روایت ہے : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے ( اس طرح ) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان ( اپنی انگلیوں سے ) کنکرپھینکتا ہے ۔