مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو ئے اور ہم ( میں سے کچھ ) نے عمرے کے لیے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " قربانی کا جا نور جس کے ساتھ ہو وہ عمرے کے ساتھ ہی حج کا بھی تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں ( کے لیے عائد کردہ احرا م کی پابندیوں ) سے آزاد نہ ہو جا ئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا جب میں مکہ پہنچی تو ایا م مخصوصہ میں تھی میں نے حج کا طواف کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی میں نے اس ( صورت حال ) کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھولو اور کنگھی کرو ( پھر ) حج کا تلبیہ پکارنا شروع کردو اور عمرے کو چھوڑدو ۔ انھوں نے کہا : میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے ( وہاں سے احرا م باندھ کر ) عمرہ کیا ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ ( عمرہ ) تمھا رے ( اس رہ جا نے والے ) عمرے کی جگہ ہے ۔ جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ انھوں نے بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا اور پھر احرام کھول دیے ۔ پھر جب وہ لو گ ( حج کے دورا ن میں ) منیٰ سے لوٹے تو انھوں نے اپنے حج کے لیے دوسری بار طواف کیا البتہ وہ لوگ جنھوں نے حج اور عمرے کو جمع کیا تھا ( حج قران کیا تھا ) تو انھوں نے ( صفامروہ کا ) ایک ہی طواف کیا ۔
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور بعض نے ( صرف ) حج کے لیے حتیٰ کہ ہم مکہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جس نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا وہ قربانی نہیں لا یا ۔ وہ احرا م کھو ل دے ۔ اور جس نے عمرے کا احرا م باندھا تھا اور ساتھ قربانی بھی لا یا ہے وہ جب تک قربانی ذبح نہ کر لے احرا م ختم نہ کرے ۔ اور جس نے صرف حج کے لیے تلبیہ کہا تھا وہ اپنا حج مکمل کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا مجھے ( راستے میں ) ایام شروع ہو گئے ۔ میں عرفہ کے دن تک ایام ہی میں رہی اور میں نے صرف عمرے کے لیے تلبیہ پکا را تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سر کے بال کھولوں لنگھی کروں اور حج کے لیے تلبیہ پکاروں اور عمرے ( کے اعمال ) چھوڑدوں تو میں نے یہی کیا ۔ جب میں نے اپنا حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس عمرے کی جگہ عمرہ کرلوں جسے حج کا دن آجا نے کی بنا پر مکمل کر کے میں اس کاا حرا م نہ کھول پا ئی تھی ۔
معمر نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا حجۃ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے سفر کے لیے ) نکلے ۔ میں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا لیکن ( اپنے ) ساتھ قر بانی نہیں لا ئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہوں وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرا م نہ کھو لے جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہو جا ئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : مجھے ایا م شروع ہو گئے جب عرفہ کی رات آگئی میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے تو عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ اب میں اپنے حج کا کیا کروں ؟آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھو لو کنگھی کرو اور عمرے سے رک جا ؤ حج کے لیے تلبیہ پکا رو ۔ انھوں نے کہا : جب میں نے اپنا حج مکمل کر لیا ( تو آپ نے میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا یا اور مقام تنعیم سے اس عمرے کی جگہ جس سے میں رک گئی تھی ( دوسرا ) عمرہ کروا دیا ۔
سفیان نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج کے لیے ) نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو اکٹھے عمرے اور حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکا رے ۔ جو ( صرف ) حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکارے اور جو ( صرف ) عمرے کے لیے پکا رنا چاہے وہ ایسا کر لے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اور آپ کے ساتھ کئی لوگوں نے ( اکیلے حج کے لیے ) تلبیہ کہا کئی لوگوں نے عمرے اور حج ( دونوں ) کے لیے تلبیہ کہا اور کئی لوگوں نے صرف عمرے کے لیے کہا اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔
عبدہ بن سلمیان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عرو ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چا ہے کہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تی کہ میں قر بانی ساتھ لا یا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔ ہم نکل پڑے حتی کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایا م میں تھی اور میں نے ( ابھی ) عمرے ( کی تکمیل کر کے اس ) کا احرا م کھو لا نہیں تھا میں نے اس ( بات ) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اپنا عمرہ چھوڑدو اپنے سرکی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دو ۔ انھوں نے کہا : میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل فر ما دیا تھا تو ( آپ نے ) میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا انھوں نے نجھے ساتھ بٹھا یا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا ۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی ۔ ( ہشام نے کہا : اس ( الگ عمرے ) کے لیے نہ قر بانی کا کو ئی جا نور ( ساتھ لا یا گیا ) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان میں سے کو ئی کا م کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔)
ابن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب ( حج کے لیے ) نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج ہی تھا ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو عمرے کا تلبیہ پکارنا چاہے وہ ( اکیلے ) عمرے کا تلبیہ پکا رے ۔ پھر عبد ہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
وکیع نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ذوالحجہ کا چا ند نکلنے کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے مدینہ سے ) نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کا تلبیہ پکارا بعض نے حج کا ۔ اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پکارا تھا ۔ اور ( وکیع نے ) آگے ان دونوں ( عبدہ اور ابن نمیر ) کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور اس میں یہ کہا عروہ نے اس کے بارے میں کہا : بلا شبہ اللہ نے ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ) اس طرح عمرہ کرنے میں نہ کو ئی قر بانی تھی نہ روزہ اور نہ صدقہ ۔
محمد بن عبد الرحمٰن بن نوفل نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃ الودع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہممیں سے کچھ ایسے تھے جنھوں نے ( صرف ) عمرےکا تلبیہ کہا بعض نے حج اور عمرے دونوں کا اور بعض نے صرف حج کا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا ۔ جس نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا وہ تو ( عمرے کی تکمیل کے بعد ) حلال ہو گیا اور جنھوں نے صرف حج کا یا حج اور عمرے فونوں کا تلبیہ کہا تھا اور قربانی کے جا نور ساتھ لا ئے تھے وہ لوگ قربانی کا دن آنے تک احرا م کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہو ئے ۔
قاسم نے اپنے والد ( محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ جب ہم مقام سرف یاس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اور مجھے روتا ہوا پا یا ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیا تمھا رے ایام شروع ہو گئے ہیں ؟ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بلا شبہ یہ چیز اللہ تعا لیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ ( کر مقدر کر ) دی ہے تم ( سارے ) کا م ویسے ہی سر انجا م دو جیسے حاجی کرتے ہیں سوائے یہ کہ جب تک غسل نہ کر لو بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا ( اس حج میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قربانی کی ۔
عبد الرحمٰن ابن سلمہ ماجثون نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج ہی کا ذکر کر رہے تھے ۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے ۔ ( اس اثنا میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ( حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : تمھیں کیا رلا رہا ہے ؟میں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی ۔ آپ نے پو چھا : تمھا رے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : "" یہ چیز تو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے ۔ تم تمام کا م ویسے کرتی جاؤ جیسے ( تمام ) حا جی کریں مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۔ انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فر ما یا : "" تم اسے ( حج کی نیت کو بدل کر ) عمرہ کر لو ۔ جن کے پاس قربانیا ں تھیں ان کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اسی کے مطا بق عمرے کا ) تلبیہ پکارنا شروع کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا اور قربانیاں ( صرف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور ( بعض ) اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ( ہی ) کے پاس تھیں ۔ جب وہ چلے تو انھوں نے ( حج ) کا تلبیہ پکارا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب قر بانی کا دن آیا تو میں پاک ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے طواف ( افاضہ ) کر لیا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہمارے پاس گا ئے کا گو شت لا یا گیا میں نے پو چھا : یہ کیا ہے ؟ انھوں ( لا نے والوں ) نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قر بانی دی ہے ۔ جب ( مدینہ کے راستے منیٰ کے فوراً بعد کی منزل ) محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ حج اور عمرہ ( دونوں ) کر کے لو ٹیں اور میں ( اکیلا ) حج کر کے لوٹوں ؟ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھا یا ۔ انھوں نے ) کہا : مجھے یا د پڑ تا ہے کہ میں ( اس وقت نو عمر لرکی تھی ( راستے میں ) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ ( بار بار ) کجا وے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے ۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا ( اور میں اس سے محروم رہ گئی تھی ) عمرے کا ( احرا م باند ھ کر ) تلبیہ پکا را
حماد ( بن سلمہ ) نے عبد الرحمٰن سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم نے حج کا تلبیہ پکا را جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رورہی تھی ( حماد نے ) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ ( الفا ظ ) نہیں : قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ہی کے پاس تھی ۔ پھر جب وہ چلے تو انھوں نے تلبیہ پکارا ۔ اور نہ یہ قول ( ان کی حدیث میں ہے ) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر ( بار بار ) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا ۔
مالک نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلا حج ( افراد ) کیا تھا ۔
افلح بن حمید نے قاسم سے انھوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں ( پابندیوں ) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہو ئے حتی کہ سرف کے مقا م پر اترے ۔ ( وہاں پہنچ کر ) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فر ما یا : "" تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ہے ۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے توا یسا کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہیں وہ ( ایسا ) نہ کرے ۔ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس ( عمرے ) کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں ۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لا ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیوں روتی ہو؟ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں ۔ آپ نے پو چھا : ( کیوں ) تمھیں کیا ہے ؟میں نے جواب دیا : میں نماز ادا نہیں کر سکتی ۔ آپ نے فر ما یا : "" یہ ( ایام عمرے حج میں ) تمھارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں ( لگی ) رہو امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ تمھیں یہ ( عمرے کا ) اجر بھی دے گا تم آدم ؑکی بیٹیوں میں سے ہو ۔ اللہ تعا لیٰ نے تمھارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے کہا ( پھر ) میں احرا م ہی کی حا لت میں ) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور ( تب ) میں ایام سے پاک ہو گئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( میرے بھا ئی ) کو بلا یا اور ان سے ) فر ما یا : "" اپنی بہن کو حرم سے باہر ( تنعیم ) لے جاؤ تا کہ یہ ( احرام باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ کہے اور ( عمرے کے لیے بیت اللہ ( اور صفامروہ ) کا طواف کر لے ۔ میں ( تمھا ری واپسی تک ) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نکل پڑے میں نے ( احرا م باندھ کر ) بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا ۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے ۔ آپ نے ( مجھ سے ) پو چھا : "" کیا تم ( عمرے سے ) فارغ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کو چ کے اعلان کا حکم دیا ۔ آپ ( وہاں سے ) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف ( وداع ) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔
عبید اللہ بن عمرنے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فر ما یا ( جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے تھے تو ) ہم میں سے بعض نے اکیلے حج ( افراد ) کا تلبیہ کہا بعض نے ایک ساتھ دونوں ( قرن ) اور بعض نے حج تمتع کا ارادہ کیا ۔
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( صرف ) حج کےلئے آئیں تھیں
یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ فرما رہی تھیں : ذوالعقدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے ، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ۔ جب ہم مکہ کہ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فر مایا : "" "" جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لے تو احرا م کھول دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : عید کے دن ہمارے پاس گا ئے گو شت لا یا گیا ۔ میں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟بتا یا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ( یہ گا ئے ) ذبح کی ہے یحییٰ نے کہا : میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو ( انھوں نے ) فر ما یا : اللہ کی قسم اس ( عمرہ ) نے تمھیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچا ئی ہے ۔
عبد الوہاب اور سفیان بن عیینہ نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ،
(ابرا ہیم نے اسود اور قاسم سے ان دونوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ ) حج اور عمرہ دودو مناسک ادا کر کے ( اپنے گھروں کو ) لو ٹیں گے اور میں صرف ایک منسک ( حج ) کر کے لو ٹوں گی؟آپ نے فرمایا : " تم ذرا انتظار کرو!جب تم پاک ہو جاؤ تو تنعیم ( کی طرف ) چلی جا نا اور وہاں سے ( احرا م باندھ کر عمرے کا ) تلبیہ پکا رنا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا ۔ ۔ ۔ ابرا ہیم نے ) کہا : میرا خیال ہے آپ نے فرمایاتھا : کل ۔ ۔ ۔ اور ( فرمایا : ) لیکن وہ ( تمھا رے عمرے کا اجر ) ۔ ۔ ۔ تمھا ری مشقت یا فرمایا : خرچ ہی کے مطا بق ہو گا ۔
ابن ابی عدی نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم اور ابرا ہیم سے روایت کی ( ابن عون نے ) کہا : میں ان میں سے ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث سے الگ نہیں کر سکتا ۔ ام المومنین ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !لوگ دومنسک ( حج اور عمرہ ) کر کے لو ٹیں ۔ اور آگے ( اسی طرح ) حدیث بیان کی ۔
منصور نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لا یا وہ احرا م کھو ل دے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جتنے لو گ بھی قربانی ساتھ نہیں لا ئے تھے ۔ انھوں نے احرا م ختم کر دیا ۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیا ں نہیں لا ئیں تھیں تو وہ بھی احرا م سے باہر آگئیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( لیکن ) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی ، کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ حج اور عمرہ کر کے لو ٹیں اور میں صرف حج کر کے لو ٹو ں گی؟آپ نے فرمایا : "" جن راتوں ( تاریخوں ) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا ۔ جی نہیں آپ نے فر ما یا : "" تو پھر اپنے بھا ئی ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جا ؤ اور وہاں سے ( عمرے کا حرا م باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ پکارو ( اور عمرہ کر لو ) پھر تم فلاں مقام پر آملنا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں : میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں ( بھی ) آپ کو روکنے والی ہوں گی ۔ آپ نے فرمایا : "" ( اپنی قوم کی زبان میں عقریٰ حلقٰی ( بے اولاد ، بے بال ، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بو لتے تھے ) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا ؟کہا : کیوں نہیں ( کیا تھا! ) آپ نے فر ما یا : "" ( تو پھر ) کو ئی بات نہیں ، اب چل پڑو ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : دوسری صبح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( اس وقت ) ملے جب آپ مکہ سے چڑھا ئی پر آرہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی ۔ ۔ ۔ یا میں چڑھا ئی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے ( واپس آرہے تھے ) ۔ ۔ ۔ اور اسحاق نے متهبطه ( اترنےوالی ) اور متهبط ( اترنے والے ) کے الفاظ کہے ۔ ( مفہوم وہی ہے)
اعمش نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اس3ود کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے ہم حج یا عمرے کا ذکر نہیں رہے تھے ۔ اور آگے ( اعمش نے ) منصور کے ہم معنی ہی حدیث بیان کی ،
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( زین العابدین ) علی بن حسین سے ، انھوں نے ذاکون مولیٰ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فر مایا : ذوالحجہ کے چار یا پانچ دن گزر چکے تھے کہ آپ میرے پاس ( خیمے میں تشریف لا ئے ، آپ غصے کی حالت میں تھے ، میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اللہ اسے آگ میں دا خل کرے ۔ آپ نے جواب دیا : "" کیا تم نہیں جا نتیں !میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا ( کہ جو قر بانی ساتھ نہیں لا ئے ، وہ عمرے کے بعد احرا م کھول دیں ) مگر اس پر عمل کرنے میں پس و پیش کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ حکم نے کہا : میرا خیال ہے ( کہ میرے استا علی بن حسین نے ) "" ایسا لگتا ہے وہ پس و پیش کررہے ہیں ۔ "" کہا ۔ ۔ ۔ اگر اپنے اس معاملے میں وہ بات پہلے میرے سامنے آجا تی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لا تا حتیٰ کہ میں اسے ( یہاں آکر ) خریدتا پھر میں ویسے احرام سے باہر آجا تا جیسے یہ سب ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین عمرے کے بعد ) آگئے ہیں ۔
عبید اللہ بن معاذ نے کہا : مجھے میرے والد نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد مکہ تشریف لا ئے آگے ( عبید اللہ بن معاذ نے ) غندر کی روایت کے مانند ہی حدیث بیان کی انھوں نے پس و پیش کرنے کے حوالےسے حکم کا شک ذکر نہیں کیا ۔
طاوس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا مکہ پہنچیں ، ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ ایا م شروع ہو گئے ، انھوں نے حج کا تلبیہ کہا اور تمام مناسک ( حج ) ادا کیے ۔ واپسی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( مخاطب ہو کر ) فر مایا : " تمھا را طواف تمھارے حج اور عمرے ( دونوں ) کے لیے کا فی ہے ۔ ( اب تمھیں مزید عمرے کی ضرورت نہیں ) " مگر وہ نہ مانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ( ان کے بھا ئی ) عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا اور انھوں نے حج کے بعد ( ایک اور ) عمرہ ادا کیا ۔
مجا ہد نے حضرت عا ئشہ سے روایت کی کہ انھیں مقام سرف سے ایام شروع ہو ئے پھر وہ عرفہ میں جا کر پاک ہو ئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا : "" تمھا ری طرف سے تمھارا صفا مروہ کا طواف تمھا رے حج اور عمرے ( دونوں ) کے لیے کا فی ہے ۔
صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ تو وہ ( عملوںکا ) ثواب لے کر لو ٹیں گے اور میں ( صرف ) ایک ( عمل کا ) ثواب لے کر لوٹوں ؟ تو ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات سن کر ) آپ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انھیں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) تنعیم تک لے جائے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : چنانچہ عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ( راستے میں ) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر کا نے کے لیے ( بار بار ) اسے اوپر اٹھا تی تو ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے ( کہااوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟ ) میں ان سے کہتی : آپ یہاں کسی ( اجنبی ) کو دیکھ رہے ہیں ؟ ( جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا ) فرماتی ہیں : میں نے ( وہاں سے ) عمرے کا احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارا ( اور عمرہ کیا ) پھر ہم ( واپس آئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ ( اس وقت ) مقام حصبہ پر تھے ۔