منصور نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضر ت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا جاہلیت کےاعمال پر ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جس نے برے اعمال کیے ، اس کا جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا ۔ ‘ ‘
Sahih MuslimHadith 120 (3 narrations)
120.01
120.02
وکیع نے اعمش کے واسطے سے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے ، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے ، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا ۔ ‘ ‘
120.03
اعمش کے ایک اور شاگرد علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔