عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھے عائشہ بنت طلحۃ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنائی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عائشہ !کیا تمھارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ "" کہا : تو میں نے عرض کی!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو ( پھر ) میں روزے سے ہوں ۔ "" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجاگیا یا ہمارے پاس ملاقاتی ( جو ہدیہ لائے ) آگئے ۔ کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے ۔ یا ہمارے پاس مہمان آئے ۔ اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ محفوظ کرکے رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ کیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : وہ حیس ( کھجور ، گھی اورپنیر سے بنا ہوا کھانا ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لایئے "" تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے ر وزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ "" طلحہ نے کہا : میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انھوں نے کہا : یہ اس آدمی کی طرح ہے جو ا پنے مال سے صدقہ نکالتا ہے ، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے ۔
Sahih MuslimHadith 1154 (2 narrations)
1154.01
1154.02
وکیع نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا : " کیا آپ لوگوں کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ " تو ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو تب میں روزے سے ہوں ۔ " پھر ایک اور دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں حیس تحفے میں ملا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے کھلایئے ، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا ۔