Sahih Muslim
1151.01

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( نبی کریم سے ) روایت کی ، کہا : " جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہوتو وہ فحش گوئی نہ کرے ، نہ جہالت والا کوئی کام کرے ، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا ( کرنا ) چاہے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔

1151.02

ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ، اللہ عزوجل نے فرمایا : ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں سوائے روزے کے ، وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاد دوں گا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!روزہ د ار کے منہ کی بو ا للہ کےنزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔

1151.03

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روزہ ایک ڈھال ہے ۔

1151.04

عطاء نے ابو صالح الزیا ت سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے فر ما یا : ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا ۔ اور روزہ ڈھال ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور وغل کرے ۔ اگر کو ئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے!قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی ۔ اور روزہ دار کے لیے دوخوشی کے موقع ہیں وہ ان دونوں پر خوش ہو تا ہے : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہو تا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے ( کی وجہ ) سے خوش ہو گا ۔

1151.05

اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہاؒ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ؒابن آدم کا ہر عمل بڑھا یا جا تا ہے ۔ نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک ( بڑھا دی جا تی ہے ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سوائے روزے کے ( کیونکہ ) وہ ( خالصتاً ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھا نا پینا چوڑ دیتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے ( روزہ ) افطار کرنے کے وقت کی اور ( دوسری ) خوشی اپنے رب سے ملا قات کے وقت کی ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند یدہ ہے ۔

1151.06

محمد بن فضیل نے ابو سنان سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل فر ماتا ہے ۔ بلا شبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ بلا شبہ روزہ دار کے لیے دوخوشیاں ہیں : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے خوش ہو تا ہے ۔ اور جب وہ اللہ سے ملا قات کرے گا ۔ خوش ہو گا ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے !اللہ کے ہاں ، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔

1151.07

عبد العزیز بن مسلم نے کہا : ہمیں ضرار بن مرہ ( ابوسنان ) نے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے ما نند ) حدیث سنائی ، کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجرو ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا ۔