ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب ، ابی معاویہ ، ابو بکر ، ابومعاویہ ، اعمش ، عمارۃ ، حضرت عبدالرحمان بن یزید فرماتے ہیں کہ اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ وہ صبح کا ناشتہ کررہے تھے انہوں نے فرمایا اے ابو محمد !آؤ ناشتہ کرلوتو انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ کیا تو جانتا ہے کہ عاشورہ کا دن کیا ہے؟اشعث نے کہا وہ کیا ہے؟حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے تو جب رمضان کے مہینے کے روزے فرض ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن کا روزہ چھوڑ دیا ۔
زہیر بن حرب ، عثمان بن ابی شیبہ ، جریر ، حضرت اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ ، وکیع ، یحییٰ بن سعید ، سفیان ، محمد بن حاتم ، زبید یامی ، عمارۃ بن عمیر ، حضرت قیس بن سکن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عاشورہ کے دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ آپ کھارہے تھے تو انہوں نے فرمایا اے ابو محمد! قریب ہوجاؤ اور کھاؤ انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ہم بھی اس د ن ر وزہ رکھتے تھے لیکن چھوڑ دیا ۔
محمد بن حاتم ، اسحاق بن منصور ، اسرائیل ، منصور ، ابراہیم ، علقمہ ، اشعث بن قیس ، علی ابن مسعود ، حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن مسعود کے پاس عاشورہ کے دن اس حال میں آئے کہ وہ کھاناکھارہے تھے توانہوں نے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمان! آج تو عاشورہ ہے؟تو ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے روزہ رکھا جاتاتھا تو جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے یہ روزہ چھوڑ دیا گیا کہ اگر تیرا روزہ نہیں تو تو بھی کھا ۔