Sahih Muslim
1126.01

ابو بکر بن ابی شیبہ ، عبداللہ بن نمیر ، ابن نمیر ، عبیداللہ ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے لوگ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمانوں نے بھی رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا جب ر مضان کے روزے فرض ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عاشورہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے تو جو چاہے عاشورہ کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے ۔

1126.02

محمد بن مثنی ، زہیر بن حرب ، یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابواسامہ ، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے ۔

1126.03

قتیبہ بن سعید ، لیث ، ابن رمح ، لیث ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت والے لوگ اس دن روزہ رکھتے تھے تو تم میں جو کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ روزہ رکھے تو رکھ لے اور جو کوئی ناپسند کرتاہے تو وہ چھوڑ دے ۔

1126.04

ابو کریب ، ابو اسامہ ، ولید ، ابن کثیر ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے بارے میں فرماتےہوئے سنا کہ یہ وہ دن ہے جس دن جاہلیت کےلوگ روزہ رکھتے تھے تو جو کوئی پسند کرتاہے کہ اس دن روزہ رکھے تو وہ روزہ رکھ لے اور جو کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ چھوڑ دے تو وہ چھوڑ دے اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے اس کے کہ ان روزوں سے موافقت ہوجائے ۔

1126.05

محمد بن احمد بن ابی خلف ، روح ، ابو مالک ، عبیداللہ بن اخنس ، نافع ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کے روزہ کا ذکر کیاگیا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی ۔

1126.06

احمد بن عثمان نوفلی ، ابو عاصم ، عمر بن محمد بن زیدعسقلانی ، سالم بن عبداللہ ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عاشورہ کے دن کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے کہ جس دن جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے تو جو چاہے ر وزہ رکھے اور جو چاہے روزہ چھوڑ دے ۔