Sahih Muslim
1730.01

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : سلیم بن اخضر نے ہمیں ابن عون سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قتال سے پہلے ( اسلام کی ) دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کو خط لکھا ۔ کہا : تو انہوں نے مجھے جواب لکھا : یہ شروع اسلام میں تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر حملہ کیا جبکہ وہ بے خبر تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے ، آپ نے ان کے جنگجو افراد کو قتل کیا اور جنگ نہ کرنے کے قابل لوگوں کو قیدی بنایا اور آپ کو اس دن ۔ یحییٰ نے کہا : میرا خیال ہے ، انہوں نے کہا : جویریہ ۔ یا قطیعت سے بنت حارث کہا ۔ ملیں ۔ مجھے یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں موجود تھے

1730.02

ابن ابی عدی نے ابن عون سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہا ، شک نہیں کیا

4521

ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع بن جراح نے سفیان سے حدی بیان کی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں یحییٰ بن آدم نے خبر دی ، کہا : ہمیں سفیان نے خبر دی ، کہا : یہ حدیث انہوں نے ہمیں املا کروائی

4522

ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں وکیع بن جراح نے سفیان سے حدی بیان کی ، نیز اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں یحییٰ بن آدم نے خبر دی ، کہا : ہمیں سفیان نے خبر دی ، کہا : یہ حدیث انہوں نے ہمیں املا کروائی

1731.03

عبدالصمد بن عبدالوارث نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے علقمہ بن مرثد نے حدیث بیان کی کہ انہیں سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی امیر کو یا چھوٹے لشکر کو روانہ کرتے تو آپ اسے بلاتے اور تلقین فرماتے ۔ ۔ پھر انہوں ( شعبہ ) نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی

1731.04

حسین بن ولید نے شعبہ سے یہی حدیث روایت کی

1732

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو جب اپنے کسی معاملے کی ذمہ داری دے کر روانہ کرتے تو فرماتے : " خوشخبری دو ، دور نہ بھگاؤ ، آسانی پیدا کرو اور مشکل میں نہ ڈالو

1733.01

شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے ، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : " تم دونوں آسانی پیدا کرنا ، مشکل میں نہ ڈالنا ، خوشخبری دینا ، دور نہ بھگانا ، آپس میں اتفاق رکھنا ، اختلاف نہ کرنا

1733.02

عمرو اور زید بن ابی انیسہ دونوں نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے ( آگے ) اپنے دادا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی حدیث کی طرح روایت کی ۔ اور زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں یہ نہیں ہے : " دونوں آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا

1734

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آسانی کرو ، دشواری پیدا نہ کرو ، اطمینان دلاؤ اور دور نہ بھگاؤ

Previous section
Page 1 of 19
Next section