علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے ہر ایک کی جہنم میں اور جنت میں جگہ لکھ دی گئی ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم پھر اپنے نوشتہ تقدیر پر بھروسہ کر لیں ۔ اور عمل کرنا چھوڑ دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمل کرتے رہو ، ہر ایک کو ، جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے ، میسر کر دیا جاتا ہے ، جو شخص سعادت مندوں میں سے ہو گا تو اس کے لیے اہل سعادت کے عمل آسان کر دئیے جائیں گے ، اور جو شخص بد نصیبوں میں سے ہوا تو اس کے لیے بدنصیبی والے عمل آسان کر دئیے جائیں گے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جس کسی نے اللہ کی راہ میں دیا اور ڈرتا رہا ، اور اچھی بات کی تصدیق کی ، تو ہم بہت جلد اس کے لیے نیکی کی راہ آسان کر دیں گے :‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۶۲) و مسلم و البیھقی فی کتاب القضاء و القدر (۴۷) ۔
Mishkat Al-MasabihHadith 85
85
Sahih