انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ثابت بن قیس بن شماس ؓ انصار کے خطیب تھے ، چنانچہ جب یہ آیت :’’ اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو ۔‘‘ نازل ہوئی تو ثابت ؓ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آنا بند کر دیا ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد بن معاذ ؓ سے فرمایا :’’ ثابت ؓ کا کیا معاملہ ہے کیا وہ بیمار ہے ؟‘‘ سعد ؓ ان کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کہا تھا اس کے متعلق انہیں بتایا تو ثابت ؓ نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میری آواز تم سب سے زیادہ بلند ہوتی ہے ، لہذا میں (اس آیت کے مطابق) جہنمیوں میں سے ہوں ، سعد ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں (ایسے نہیں) بلکہ وہ تو اہل جنت میں سے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat Al-MasabihHadith 6211
6211
Sahih