خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ، ہم اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے ، چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ہاں ثابت ہو گیا ، ہم میں سے کچھ (جلد) وفات پا گئے اور انہوں نے اپنے (دنیوی) اجر (مال غنیمت وغیرہ) سے کچھ نہ پایا ، مصعب بن عمیر ؓ بھی انہی میں سے ہیں ، وہ غزوۂ احد میں شہید ہو گئے تھے ، انہیں کفن دینے کے لیے صرف ایک دھاری دار چادر میسر آئی ، جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے دونوں پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ہم ان کے دونوں پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر گھاس ڈال دو ۔‘‘ اور ہم میں سے وہ بھی ہیں کہ ان کے لیے پھل پک چکے ہیں اور وہ انہیں چن رہے ہیں ۔ (قتوحات کے بعد دنیوی فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں) متفق علیہ ۔
Mishkat Al-MasabihHadith 6205
6205
Sahih