ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں روانہ کیا ، لوگ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے اور ہم نے مدینہ منورہ پہنچ کر پناہ لی ، اور ہم نے کہا : ہم مارے گئے ، پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم تو فرار ہونے والے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تم دوبارہ حملہ کرنے والے ہو ، اور میں تمہاری جماعت ہوں (کہ فرار کے زمرے میں نہیں ، بلکہ تم جماعت کے پاس آئے ہو) ۔‘‘ ترمذی ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں اسی طرح ہے ، اور فرمایا :’’ بلکہ جانے والے ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم قریب ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کو بوسہ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔ اور ہم امیہ بن عبداللہ سے مروی حدیث ((کان یستفتح)) اور ابودرداء ؓ سے مروی حدیث :’’ مجھے اپنے ضعفاء میں تلاش کرو ۔ باب فضل الفقراء میں ان شاءاللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔
Mishkat Al-MasabihHadith 3958
3958
Sahih