Mishkat Al-Masabih
3265
Sahih

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ تبوک یا غزوہ حنین سے واپس تشریف لائے ، اور ان (عائشہ ؓ) کی الماری پر پردہ تھا ، ہوا چلی تو اس نے عائشہ ؓ کی گڑیوں اور کھلونوں سے پردہ ہٹا دیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میری گڑیاں ہیں ، آپ نے ان میں ایک گھوڑا دیکھا جس کے کپڑے سے بنے ہوئے دو پَر تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں ان کے درمیان میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : گھوڑا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اور جو اِس کے اُوپر ہے ، وہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : دو پَر ہیں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گھوڑا اور اس کے دو پَر !‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان ؑ کا ایک گھوڑا تھا جس کے پر تھے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، یہ سن کر آپ مسکرا دیے حتی کہ میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھیں دیکھیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔