Mishkat Al-Masabih
2993
Sahih

عروہ بیان کرتے ہیں ، زبیر کا حرّہ کے برساتی نالے میں ایک انصاری آدمی سے جھگڑا ہو گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زبیر ! پہلے تم سیراب کر لو ، پھر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ۔‘‘ انصاری بولنے لگا : کیونکہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا ، پھر فرمایا :’’ زبیر ! پہلے تم سیراب کرو ، پھر پانی روک رکھو حتی کہ وہ منڈیر تک پہنچ جائے ، پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دے ۔‘‘ یوں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صریح حکم میں (فی الحقیقت) زبیر ؓ کو پورا حق دے دیا ۔ جبکہ انصاری نے (قول فیصل پر معترض ہو کر) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غصہ دلایا ، حالانکہ آپ نے پہلے ایسا حکم دیا تھا جس میں دونوں کے لیے وسعت تھی ۔ متفق علیہ ۔