رافع بن عمرو غفاری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں چھوٹا سا لڑکا تھا اور میں انصار کے کھجوروں کے درختوں پر پتھر پھینک رہا تھا ، تو مجھے (پکڑ کر) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لڑکے ! تم نے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں پھینکے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، کھجوریں کھانے کے لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پتھر نہ مارو ، جو نیچے گری ہوں ان میں سے کھاؤ ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور دعا کی :’’ اے اللہ ! اس کے پیٹ کو بھر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔ وَسَنَذْکُرُ حَدِیْثَ عَمْرِ وبْنِ شُعَیْبِ فِیْ بَابِ اللُّقْطَۃِ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالیٰ ۔ اور عمرو بن شعیب کی حدیث کو ہم انشاءاللہ ’’ باب اللقطۃ ‘‘ میں ذکر کریں گے ۔
Mishkat Al-MasabihHadith 2957
2957
Sahih