Mishkat Al-Masabih
2814
Sahih

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، بلال ؓ برنی (بڑی عمدہ قسم کی) کھجوریں لے کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا :’’ یہ کہاں سے لائے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہمارے پاس نکمی کھجوریں تھیں میں نے ان کے دو صاع کے عوض ان کا ایک صاع لیا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ افسوس ! افسوس ! یہ تو بالکل سود ہے ، بالکل سود ہے ، ایسے نہ کرو ، بلکہ جب تم خریدنا چاہو تو ان کھجوروں کو فروخت کرو ، پھر اس (قیمت) کے عوض انہیں خریدو ۔‘‘ متفق علیہ ۔