عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ حجر اسود اور رکن یمانی پر بہت زیادہ غلبہ (رش) کرتے تھے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی ایک صحابی کو ان پر غلبہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، انہوں نے فرمایا : میں اس لیے ایسے کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ان دونوں کو ہاتھ لگانا گناہوں کا کفارہ ہے ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ہر ہفتے بیت اللہ کا طواف کرے اور اس کی حفاظت کرے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے غلام آزاد کیا ہو ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب وہ (طواف میں) ایک قدم رکھتا ہے اور دوسرا اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Mishkat Al-MasabihHadith 2580
2580
Sahih