ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت :’’ جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں ،،،،،،‘‘ نازل ہوئی تو یہ مسلمانوں پر بہت گراں گزری ، تو عمر ؓ نے فرمایا : میں تمہاری اس مشکل کو حل کرتا ہوں ، وہ گئے اور عرض کیا ، اللہ کے نبی ! یہ آیت آپ کے صحابہ پر بہت گراں گزری ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے زکوۃ اس لیے فرض کی ہے تاکہ وہ تمہارے باقی اموال کو پاک کر دے ، اور اس نے وراثت کو اس لیے فرض کیا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : آپ نے ایک کلمہ ذکر کیا :’’ تاکہ وہ تمہارے بعد والوں کے لیے ہو جائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے (خوشی کے ساتھ) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ کیا میں تمہیں آدمی کے بہترین خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ صالحہ بیوی ہے ، جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے ، جب وہ اسے حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ اس کے پاس نہ ہو تو وہ اس (کے تمام حقوق ) کی حفاظت کرے ۔‘‘ ضعیف ۔
Mishkat Al-MasabihHadith 1781
1781
Sahih