Muwatta Malik
448
Sahih

اسما بنت ابی بکر سے روایت ہے کہ میں آئی عائشہ کے پاس جس وقت گہن لگا آفتاب کو تو دیکھا میں نے لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے اور عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز پڑھ رہی تھیں تو میں نے کہا کیا ہوا لوگوں کو تو اشارہ کیا حضرت عائشہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اور سبحان اللہ کہا میں نے کہا کوئی نشانی ہے انہوں نے اشارہ سے کہا ہاں کہا اسما نے تو میں کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی اللہ کی اور ثنا کی اس کی پھر فرمایا جو چیز میں نے دیکھی تھی وہ آج میں نے سیکھ لی اس جگہ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھا اور مجھے وحی سے معلوم ہوا کہ قبر کے بارے میں تم فتنہ میں پڑ جاؤ گے مثل فتنہ دجال کے یا اس کے قریب معلوم نہیں اسماء نے کیا کہا آئیں گے اس کے پاس فرشتے تو پوچھیں گے اس سے تو کیا سمجھتا ہے اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہے یا یقین رکھتا ہے معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا یہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اللہ جل جلالہ کے بھیجے ہوئے ہمارے پاس کھلی کھلی نشانیاں اور ہدایت یعنی کلام اللہ لے کر پس قبول کیا ہم نے اور ایمان لائے ہم اور پیروی کی ہم نے ان کی تب فرشتے اس سے کہیں گے سو رہ اچھی طرح ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ تو مومن ہے اور منافق جس کو شک ہے حضرت کی رسالت میں معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا میں نہیں جانتا لوگوں سے میں نے جو سنا وہ کہا ۔