Muwatta Malik
1388
Sahih Lighairihi

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبیر کے یہودیوں سے جس دن خبیر فتح ہوا جو تم کو اللہ نے دیا ہے اس پر میں تہیں برقرار رکھوں گا اس شرط سے کہ جتنے پھل یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ ہم میں تم میں مشترک ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواضہ کو بھیجتے تھے وہ درختوں کو دیکھ کر ان کے پھلوں کا اندازہ کرتے تھے اگر تم چاہو تو تم ان پھولوں کو لے لو اور جو اندازہ ہوا ہے اس کا آدھا ہم کو دیدو ہم تم کو اس اندازے کے آدھے پھل دیں گے یہود خود پھل لے لیا کرتے ۔

1388.5

کہا مالک نے اگر مضارب نے اسباب خریا اور رب المال نے کہا اس کو بیچ ڈال مضارب نے کہا ابھی اس کا بیچنا مناسب نہیں ہے تو اور تجارت پیشہ سے جو اس امر میں مہارت رکھتے ہوں پوچھیں گے اگر وہ بیچنے کی رائے دیں گے تو بیع کر ڈالیں گے ورنہ انتظار کریں۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے مال مضاربت میں تجارت شروع کی پھر رب المال نے اپنا مال مانگا اس نے کہا میرے پاس پورا مال موجود ہے جب وہ لینے گیا تو مضارب نے کہا کچھ مال میرے پاس تلف ہوگیا پہلے میں نے اس واسطے کہہ دیا تھا کہ تو اپنے مال کو میرے پاس رہنے دے تو مضارب کے اس قول کا اعتبار نہ ہوگا مگر جب وہ دلیل قائم کرے۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر مضارب بولا میں نے اتنا نفع کمایا ہے جب مالک نے مال اور نفع طلب کیا تو کہنے لگا نفع نہیں ہوا اس کی بات کا اعتبار نہ ہوگا جب تک دلیل نہ لائے۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے نفع کمایا پھر رب المال کہنے لگا کہ دو حصے نفع کے میرے لئے ٹھہرے تھے اور ایک حصہ تیرے لئے اور مضارب نے کہا میرے لئے دو حصے ٹھہرے تھے اور ایک حصہ تیرے لئے تو مضارب کا قول قسم سے قبول ہوگا مگر جب دستور کے خلاف ہو تو رواج کے موافق حکم ہوگا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو کو سو دینار مضاربت کے طور پر دیئے عمرو نے اس کے عوض میں اسباب خریدا جب بائع (بچنے والا) کو دینے لگا تو معلوا ہوا وہ سو دینار چوری ہوگئے اب رب المال کہتا ہے تو اس مال کو بیچ اگر اس میں نفع ہو تو میرا ہے اور جو نقصان ہو تجھ پر ہے کیونکہ تونے میرا مال تلف کیا مضارب کہتا ہے تو اپنے پاس سے اس اسباب کی قیمت دے کیونکہ میں نے اس کو تیرے مال کے بدلے میں خریدا ہے تو مضارب کو حکم ہوگا اس اسباب کی قیمت بائع (بچنے والا) کو ادا کرے اور رب المال سے کہا جائے گا اگر تیرا جی چاہے تو سو دینار مضارب کو پھر دے دے تاکہ مضاربت بحال رہے نہیں تو اس اسباب سے تجھ کو کچھ تعلق نہ ہوگا۔ اگر رب المال نے سو دینار پھر دے دیئے تو مضاربت اپنے حال پر قائم رہے گی ورنہ وہ اسباب مضارب کا ہوجائے گا۔ کہا مالک نے جب رب المال اور مضارب الگ ہوجائیں (یعنی معاملہ مضاربت ختم ہوجائے) لیکن مضارب کے پاس مال مضاربت میں سے کوئی پھٹی پرانی مشک یا پھٹا پرانا کپڑا وغیرہ رہ جائے اگر وہ شئے کم قیمت حقیر ہے تو مضارب ہی کی ہوجائے گی اس کے پھیرنے کا حکم نہ ہوگا اگر وہ شئے قیمت دار ہو جیسے کوئی جانور یا اونٹ یا عمدہ کپڑا یمن کا تو اس کا پھیرنا ضروری ہے مگر جب رب المال سے معاف کرالے۔