Muwatta Malik
1188
Sahih

سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی کے پاس آئے اور پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو پائے پھر کیا کرے اگر اس کو مار ڈالے تو خود بھی مارا جاتا ہے تم میرے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کو پوچھو عاصم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کو پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو نا پسند کیا اور برا کہا عاصم کو یہ امر نہایت دشوار گزرا وہ جب لوٹ کر اپنے گھر میں آئے عویمر نے آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا عاصم نے کہا تم سے مجھے بھلائی نہ پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو برا جانا عویمر نے کہا قسم اللہ کی میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پوچھے نہ رہوں گا پھر عویمر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لوگ جمع تھے انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی بیگانے مرد کو اپنی بی بی کے ساتھ پائے اور اس کو مار ڈالے تو خود مارا جاتا ہے پھر کیا کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے اور تمہاری بی بی کے حق میں اللہ کا حکم اترا ہے تم اپنی بی بی کو لے آؤ سہل کہتے ہیں دونوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کیا اور میں اس وقت موجود تھا جب لعان سے فارغ ہوئے عویمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اس عورت کو رکھوں تو گویا میں نے جھوٹ بولا یہ کہہ کر تین طلاق دے دیں بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے ہوئے ابن شہاب نے کہا پھر یہی متلاعنین کا طریقہ جاری رہا ۔