Muwatta Malik
1088
Maqtu Sahih

ربیعہ بن ابی عبدالرحمن اور بہت سے علماء سے روایت ہے کہ جتنے لوگ قتل ہوئے جنگ جمل اور جنگ صفین اور یوم الحرہ میں اور جو یوم القدید میں مارے گئے وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوئے مگر جس شخص کا حال معلوم ہو گیا کہ وہ اپنے وارث سے پہلے مارا گیا ۔ کہا مالک نے یہی حکم ہے اگر کوئی آدمی ڈوب جائے یا مکان سے گر کر مارے جائیں یا قتل کئے جائیں جب معلوم نہ ہوسکے کہ پہلے کون مرا اور بعد میں کون مرا تو آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے بلکہ ہر ایک کا ترکہ اس کے وارثوں کو جو زندہ ہوں پہنچے گا۔ کہا مالک نے کوئی کسی کا وارث شک سے نہ ہوگا بلکہ علم و یقین سے وارث ہوگا مثلا ایک شخص مرجائے اور اس کے باپ کا مولیٰ (غلام آزاد کیا ہوا) مرجائے اب اس کے بیٹے یہ کہیں اس مولیٰ کا وارث ہمارا باپ تھا تو یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ علم ویقین یا گواہوں سے یہ ثابت نہ ہو کہ پہلے مولیٰ مرا تھا ۔ اس وقت تک مولیٰ کے وارث جو زندہ ہوں اس ترکہ کو پائیں گے ۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر سگے دو بھائی مرجائیں ایک کی اولاد ہو اور دوسرا لاولد ہو ان دونوں کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہو پھر معلوم نہ ہوسکے کہ پہلے کون سا بھائی مرا ہے تو جو بھائی لاولد مرا ہے اس کا ترکہ اس کے سوتیلے بھائی کو ملے گا اس کے بھتیجوں کو نہ ملے گا۔