Muwatta Malik
Sahih
225

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص غسل کرے جمعہ کے دن مانند غسل جنابت کے پھر جائے مسجد کو پہلی ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک اونٹ اور جو جائے دوسری ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک بیل یا گائے اور جو جائے تیسری ساعت تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مینڈھا سینگ دار اور چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مرغ اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو صدقہ دیا اس نے ایک انڈا پھر جس وقت امام نکلتا ہے خطبہ کو فرشتے آتے ہیں خطبہ سننے کو ۔

Maqtu Sahih
226

ابوہریرہ کہتے تھے جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے ہر بالغ پر مثل غسل جنابت کے ۔

Maqtu Sahih
227

سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ایک شخص آئے اصحاب میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں جمعہ کے دن اور حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے تھے تو بولے حضرت عمر کیا وقت ہے یہ آنے کا جواب دیا اس شخص نے کہ میں لوٹا بازار سے تو سنا میں نے اذان کو پس وضو کیا اور چلا آیا تو کہا حضرت عمر نے یہ دوسرا قصور ہے تم نے صرف وضو کیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم کرتے تھے غسل کا ۔

Sahih
228

ابو سعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غسل جمعہ کا واجب ہے ہر شخص بالغ پر ۔

Sahih
229

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص آئے جمعہ کو تو غسل کر کے آئے یا جو شخص نماز جمعہ کا ارادہ کرے تو غسل کر لے ۔

Sahih
230

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت امام خطبہ پڑھتا ہے اگر تو اپنے پاس والے سے کہے چپ رہ تو تو نے بھی ایک لغو حرکت کی ۔

Mauquf Sahih
231

ثعلبہ بن ابی مالک قرظی سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھا کرتے تھے جمعہ کے دن یہاں تک کہ نکلیں عمر بن خطاب پھر جب نکلتے عمر اور بیٹھے ہوئے باتیں کیا کرتے جب مؤذن چپ ہو رہتے اور عمر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تو کوئی بات نہ کرتا کہا ابن شہاب نے جب امام نکلے خطبے کے لئے تو نماز موقوف کرنا چاہئے اور جب خطبہ شروع کرے تو بات موقوف کرنا چاہئے۔

Mauquf Sahih
232

مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان جب خطبہ کو کھڑے ہوئے تو اکثر کہا کرتے بہت کم چھوڑ دیتے یہ بات اے لوگو! جب امام کھڑا ہو خطبہ کے لئے تو سنو خطبہ کو اور چپ رہو کیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے اور جب تکبیر ہو نماز کی تو برابر کرو صفوں کو اور برابر کرو مونڈھوں کو کیونکہ صفیں برابر کرنا نماز کا تتمہ ہے پھر تکبیر تحریمہ نہ کہتے تھے عثمان یہاں تک کہ خبر دیتے آکر ان کو وہ لوگ جن کو مقرر کیا تھا صفیں برابر کرنے پر اس بات کی صفیں برابر ہو گئیں اس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تھے ۔

Mauquf Sahih
233

No translation available for this language.

Maqtu Sahih
234

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے دیکھا دو مردوں کو خطبہ کے وقت باتیں کر رہے ہیں تو کنکر پھینکے ان پر اس لئے کہ چپ رہیں ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص چھینکا دن جمعہ کے اور امام خطبہ پڑھتا تھا تو جواب دیا اس کو ایک آدمی نے پھر پوچھا سعید بن مسیب سے تو منع کیا انہوں نے اس سے اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا۔

Previous section
Page 1 of 3
Next section