Muwatta Malik
Sahih
1671

انس بن مالک کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ لمبے تھے بہت نہ ٹھگنے تھے سفید تھے چونے کی طرح نہ بہت گندمی اور بال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت گھونگریالے بھی نہ تھے اور بہت سیدتے بھی نہ تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سن چالیس برس کا ہوا تو اللہ جل جلالہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت عطا فرمائی پھر بعد بنوت کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس رہے اور ساٹح برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ ہوں گے ۔

Sahih
1672

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ کعبہ کے پاس ہوں تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ جیسے کہ تو نے بہت اچھے گندمی رنگ کے آدمی دیکھے ہوں اس کے کندھوں تک بال ہیں جیسے کہ تو نے بہت اچھے کندھوں تک بال دیکھے ہوں سو اس نے مرد نے اس بال میں کنگھی کی ہے تو ان سے پانی ٹپکتا ہے دو آدمیوں پر تکیہ لگائے یوں فرمایا کہ دو آمیوں کے کندھو رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تکیہ لگائے وہی شخص بیت اللہ کا طواف کرتا ہے سو میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے تو کسی نے مجھ سے کہا یہ کہ مسیح ہے مریم کا بیٹا پھر میں نے یکایک ایک اور شخص دیکھا نہایت گھنگریالے بال والا دائیں انکھ کا کانا اس کی کافی آنکھ ایسی تھی جیسے پھولا ہوا انگور سو میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے کسی نے مجھ سے کہا یہ مسیح دجال ہے ۔

Mauquf Sahih
1673

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ پانچ چیزیں پیدائشی سنت ہیں ایک ناخن کاٹنا دوسرے مونچھیں کتروانا تیسرے بغل کے بال اکھاڑنا چوتھے زیر ناف کے بال مونڈنا پانچویں ختنہ کرنا ۔

Maqtu Sahih
1674

سعید بن مسیب نے کہا کہ حضرت ابراہیم ہی نے سب سے پہلے مہمان کی ضیافت کی اور سب سے پہلے ختنہ کیا اور سب سے پہلے مونچھیں کتریں اور سب سے پہلے سفید بال کو دیکھ کر کہا کہ اے پروردگار یہ کیا ہے اللہ جل جلالہ نے فرمایا یہ عزت اور وقار ہے، حضرت ابراہیم نے کہا تو اے پروردگار زیادہ عزت دے مجھ کو ۔ کہا مالک نے مونچھوں کو اتنا کترنا چاہیے کہ ہونٹ کے کنارے کھل جائیں یہ نہیں کہ بالکل کتر ڈالے۔

Sahih
1675

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا بائیں ہاتھ سے کھانے کو اور ایک جوتا پہن کر چلنے کا اور ایک کپڑا سر سے پاؤں تک لپیٹ لینے کو اور ایک کپڑا اوڑھ کر گوٹ مار کر بیٹھنے کو اس طرح کہ شرم گاہ کھلی رہے ۔

Sahih
1676

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جب کوئی کھائے تم میں سے تو اپنے داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو چاہئے کہ داہنے ہاتھ سے پئے اس واسطے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔

Sahih
1677

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں ہے جو گھر گھر مانگتا پھرتا ہے کہیں سے ایک لقمہ ملا کہیں سے دو لقمے کہیں سے ایک کھجور کہیں سے دو کھجوریں۔ صحابہ نے پوچھا پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکیں کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس مال نہں ہے کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے نہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہے تاکہ اس کو صدقہ دیں نہ وہ مانگنے کو کھڑا ہوتا ہے ۔

Sahih
1678

ام بجید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ دو مسکین کو اگرچہ جلا ہوا کھر ہو ۔

Sahih
1679

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔

Sahih
1680

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کافر آیا مہمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بکری کے دودھ دوہنے کا حکم کیا وہ سب پی گیا پھر دوسری بکری کو دوہا گیا وہ بھی پی گیا پھر تیسری بکری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا پھر دوسرے دن صبح کو وہ شخص مسلمان ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کا دودھ اس کے پینے کو دیا وہ پی نہ سکا تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔

Previous section
Page 1 of 4
Next section