Muwatta Malik
Sahih
1623

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بحث کی آدم اور موسیٰ نے تو غالب ہوئے آدم موسیٰ پر موسیٰ نے کہا تو وہی آدم ہے کہ گمراہ کیا تو نے لوگوں کو اور نکالا ان کو جنت سے آدم نے کہا کہ تو وہی موسیٰ ہے کہ اللہ نے تجھے علم دیا ہر چیز کا اور برگزیدہ کیا رسالت سے انہوں نے کہا ہاں پھر آدم نے کہا باوجود اس کے تو مجھے ملامت کرتا ہے ایسے کام پر جو میری تقدیر میں لکھا جا چکا تھا قبل میرے پیدا ہونے کے ۔

Daif
1624

مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا اس آیت کے متعلق یعنی یاد کر اس وقت کو جب تیرے پروردگار نے آدم کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ کیا ان پر اس بات کا کیا میں نہیں ہوں پروردگار تمہارا، بولے کیوں نہیں تو پروردگار ہے ہمارا، ہم نے اس واسطے گواہ کیا کہ کہیں ایسا نہ کہو تم قیامت کے روز کہ ہم تو اس سے غافل تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی اس آیت کی تفسیر کا سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان میں اپنا داہنا ہاتھ پھیرا اور اولاد نکالی اور فرمایا میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ لوگ جنیتوں کے کام کریں گے پھر بایاں ہاتھ پھیرا ان کی پیٹھ پر اور اولاد نکالی فرمایا میں نے ان کو جہنم کے لئے پیدا کیا اور یہ جہنموں کے کام کریں گے ایک شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب پیدا کرتا ہے کسی بندے کو جنت کے واسطے تو اس سے جنیتوں کے کام کراتا ہے اور موت کے وقت بھی وہ نیک عمل کرکے مرتا ہے تو اللہ جل جلالہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے اور جب کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنیموں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ موت بھی اسے برے کام پر آتی ہے تو اسے جہنم میں داخل کرتا ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ چھوڑے جاتا ہوں میں تم میں دو چیزوں کو نہیں گمراہ ہو گے جب تک پکڑے رہو گے ان کو، کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔

Sahih Lighairihi
1625

No translation available for this language.

Sahih
1626

طاؤس الیمانی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے چند صحابہ کو پایا کہتے تھے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے طاؤس نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا کہتے تھے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عاجزی اور ہوشیاری بھی ۔

Mauquf Sahih
1627

عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر سے سنا خطبہ میں فرماتے تھے کہ اللہ ہی ہدایت کرنے والا اور گمراہ کرنے والا ہے ۔

Maqtu Sahih
1628

ابی سہیل بن مالک عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ جا رہے تھے انہوں نے پوچھا ابوسہیل سے کہ تمہاری کیا رائے ہے قدریہ کے بارے میں ابوسہیل نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان سے توبہ کراؤ توبہ کر لیں تو بہتر، نہیں تو قتل کئے جائیں عمر بن عبدالعزیز نے کہا میری رائے بھی یہی ہے مالک نے کہا میری بھی یہی رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں ۔

Sahih
1629

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہ چاہے کوئی عورت طلاق اپنی بہن کی تاکہ خالی کرے پیالہ اس کا بلکہ نکاح کر لے کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے اس کو ملے گا۔

Sahih
1630

محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے منبر پر کہا اے لوگوں جو اللہ جل جلالہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جو نہ دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور کسی طاقت والے کی طاقت کام نہیں آتی جس شخص کو اللہ بھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتا ہے اور علم فقہ دیتا ہے پھر کہا معاویہ نے میں نے ان کلمات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا انہیں لکڑیوں پر ۔ امام مالک سے روایت ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ یوں کہا کرتے تھے کہ سب خوبیاں اس اللہ کی ہیں جس نے پیدا کیا عرش کو جیسے چاہے جو وقت مقرر کر دیا ہے اس سے پہلے کوئی چیز نہیں ہو سکتی کافی ہے مجھ کو اللہ اور کافی ہے ایسا کافی ہے کہ سنتا ہے اللہ جو اس کو پکارے اللہ کے سوا کوئی شخص نہیں جس سے دعا کیا جائے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ پہلے زمانے میں یوں کہا جاتا تھا کہ کوئی آدمی نہیں مرے گا جب تک کہ اس کا رزق پورا نہ ہو پس اختصار کرو طلب معاش میں۔

Maqtu Daif
1631

No translation available for this language.

Maqtu Daif
1632

No translation available for this language.