Muwatta Malik
Sahih
1596

سہل بن ابی حثمہ کو خبر دی کچھ لوگوں نے جو اس کی قوم کے معزز تھے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ فقر اور افلاس کی وجہ سے خبیر کو گئے محیصہ کے پاس ایک شخص آیا اور بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل کو کسی نے قتل کر کے کنوئیں میں یا چشمے میں ڈال دیا ہے محیصہ یہ سن کر خیبر کے یہودیوں کے پاس آئے اور کہا قسم اللہ کی تم نے اس کو قتل کیا ہے یہودیوں نے کہا قسم اللہ کی ہم نے قتل نہیں کیا اس کو، پھر محیصہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا بعد اس کے محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ جو محیصہ سے بڑے تھے اور عبدالرحمن بن سہل (جو عبداللہ بن سہل مقتول کے بھائی تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے محیصہ نے چاہا کہ میں بات کروں کیونکہ وہی خبیر کو گئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بزرگی کی رعایت کر۔ حویصہ نے پہلے بیان کیا پھر محیصہ نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو یہودی تمہارے قتل کی دیت دیں یا جنگ کریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو اس بارے میں لکھا انہوں نے جواب میں لکھا کہ قسم اللہ کی ہم نے اس کو قتل نہیں کیا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حویصہ اور محیصہ اور عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا تم قسم کھاؤ کہ یہودیوں نے اس کو مارا ہے تو دیت کے حقدار ہو گے انہوں نے کہا ہم قسم نہ کھائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا اگر یہودی قسم کھالیں کہ ہم نے نہیں مارا انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مسلمان نہیں ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت ادا کی سہل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس سو اونٹ بھیجے ان کے گھروں پر ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی ۔

Sahih
1597

No translation available for this language.