No translation available for this language.
عبداللہ بن عمر کہتے تھے مکاتب غلام رہے گا جب تک اس پر کچھ بھی بدل کتابت میں سے باقی رہے۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار کہتے تھے مکاتب غلام ہے جب تک اس پر کچھ بھی بدل کتاب میں سے باقی ہے ۔ کہا مالک نے میری رائے یہی ہے کہ اگر مکاتب اپنی بدل کتابت سے زیادہ مالک چھوڑ کر مر جائے اور اپنی اولاد کو جو حالت کتابت میں پیدا ہوئی تھی یا عقدکتابت میں داخل تھی چھوڑ جائے تو پہلے اس کے مالک میں سے بدل کتابت ادا کریں گے پھر جس قدر بچ رہے گا اس کی وارث مکاتب کی اولاد ہوگی۔
No translation available for this language.
No translation available for this language.
No translation available for this language.
No translation available for this language.
No translation available for this language.
سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ ایک مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو ایک شخص ان میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے پھر مکاتب مر جائے اور بہت سا مال چھوڑ جائے تو سعید نے کہا جس نے آزاد نہیں کیا اس کا بدل کتابت ادا کر کے باقی جو کچھ بچے گا دونوں شخص بانٹ لیں گے ۔ کہا مالک نے جب مکاتب آزاد ہو جائے تو اس کا وارث وہ شخص ہوگا جس نے مکاتب کیا یا مکاتب کے قریب سے قریب رشتہ دار مردوں میں سے جس دن مکاتب مرا ہے لڑکا ہو یا اور عصبہ۔ کہا مالک نے اس طرح جو شخص آزاد ہو جائے تو اس کی میراث اس شخص کو ملے گی جو آزاد کرنے والے کا قریب سے قریب رشتہ دار ہو لڑکا ہو یا اور کوئی عصبہ جس دن وہ غلام مرا ہے۔ کہا مالک نے اگر چند بھائی کٹھا مکاتب کر دیئے جائیں اور ان کی کوئی اولاد نہ ہو جو کتابت میں پیدا ہوئی ہو یا عقد کتابت میں داخل ہو تو وہ بھائی آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اگر ان میں سے کسی کا لڑکا ہوگا جو کتابت میں پیدا ہوا ہو یا اس پر عقد کتابت واقع ہوا ہو اور وہ مر جائے تو پہلے اس کے مال میں سے سب کا بدل کتابت ادا کر کے جو کچھ بچ رہے گا وہ اس کی اولاد کو ملے گا اس کے بھائیوں کو نہ ملے گا۔