Muwatta Malik
Sahih
690

حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو جھکا دیتے سر اپنا میری طرف سو میں کنگھی کر دیتی اور گھر میں نہ آتے مگر حاجت ضروری کے واسطے ۔

Mauquf Sahih
691

عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عائشہ جب اعتکاف کرتیں تو بیمار پرسی نہ کرتیں مگر چلتے چلتے، ٹھہرتی نہیں تھیں ۔

Maqtu Sahih
692

امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب سے کہ معتکف کو پٹے ہوئے مکان میں حاجت ضروری کو جانا درست ہے بولے ہاں درست ہے کچھ حرج نہیں ۔

Maqtu Daif
693

قاسم بن محمد اور نافع جو مولیٰ ہیں عبداللہ بن عمر کے دونوں کہتے تھے کہ اعتکاف بغیر روزے کے درست نہیں ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا اپنی کتاب میں کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ سفید دھاری معلوم ہونے لگے سیاہ دھاری سے فجر کی تمام کرو روزوں کو رات تک اور نہ چمٹو اپنی عورتوں سے جب تم اعتکاف سے ہو مسجدوں میں تو ذکر کیا اللہ جل جلالہ نے اعتکاف کا روزے کے ساتھ ۔

Maqtu Sahih
694

سمی جو مولیٰ ہیں ابی بکر کے ان سے روایت ہے کہ ابوبکر بن عبدالرحمن اعتکاف کرتے تو جاتے حاجت ضروری کے واسطے ایک چھت دار کوٹھری میں جو بند رہتی خالد بن ولید کے گھر میں، پھر نہ نکلتے اعتکاف سے یہاں تک کہ حاضر ہوتے عید میں ساتھ مسلمانوں کے ۔

Shadh, Sahih
695

عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا اعتکاف کا جب آئے آپ اس جگہ جہاں اعتکاف کرنا چاہتے تھے پائے آپ نے کئی خیمے ایک خیمہ عائشہ کا اور ایک خیمہ حفصہ کا اور ایک خیمہ زینب کا تو پوچھا آپ نے یہ کن کے خیمے ہیں لوگوں نے کہا عائشہ اور حفصہ اور زینب رضی اللہ عنھن کے ۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم نیکی کا گمان کرتے ہو ان عورتوں کے ساتھ، پھر لوٹ آئے آپ اور اعتکاف نہ کیا پھر شوال کے دس دنوں میں اعتکاف کیا۔

Sahih
696

ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت ضروری کے لئے گھروں میں آئے تھے اعتکاف کی حالت میں ۔

Sahih
697

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے رمضان کے درمیانی عشرے کا تو ایک سال اعتکاف کیا جب اکیسویں رات آئی جس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے باہر آیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو چاہیے اور دس دن تک اخیر میں اعتکاف کرے میں نے شب قدر کو معلوم کیا تھا پھر میں بھلا دیا گیا میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ میں شب قدر کی صبح کو سجدہ کرتا ہوں کیچڑ اور پانی میں پس ڈھونڈو تم اس کو اخیر دس میں سے ہر طاق رات میں ابوسعید خدری نے کہا کہ اسی رات پانی برسا اور مسجد کی چھت پتوں اور شاخوں کی تھی تو ٹپکی مسجد ابوسعید نے کہا میری دونوں آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پیشانی اور ناک مبارک پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مٹی اور پانی کا نشان تھا ۔

Sahih
698

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی اخیر دس راتوں میں

Sahih
699

عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی آخر سات راتوں میں

Previous section
Page 1 of 2
Next section