Muwatta Malik
Sahih
441

روایت ہے اس شخص سے جس نے نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں خوف کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوئے نماز کو اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہے تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھی ان لوگوں کے ساتھ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے اور وہ لوگ اپنی نماز پوری کر کے چلے گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے وہ آئے ان کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی پھر آپ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے ایک رکعت پڑھی جب آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا

Sahih
442

سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے انہوں نے کہا نماز خوف کی اس طرح پر ہے کہ امام کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ نماز کے لئے کھڑا کر لے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہیں تو امام ایک رکعت پڑھے اور سجدہ کرے جب سجدہ سے کھڑا ہو تو امام کھڑا رہے اور مقتدی اپنی ایک رکعت جو باقی ہے پڑھ کو سلام پھیر کر چلے جائیں دشمن کے سامنے اور دشمن کے سامنے جو لوگ تھے وہ آکر تکبیر تحریمہ کہہ کر امام کے ساتھ شریک ہوں تو امام رکوع اور سجدہ سے فارغ ہو کر سلام پھیر دے اور لوگ کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیریں ۔

Sahih
443

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جب سوال ہوتا نماز خوف کا کہتے امام آگے بڑھے نماز کو اور کچھ لوگ اس کے پیچھے ہوں تو ان کو امام ایک رکعت پڑھائے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے ہوں تو جب وہ لوگ جو امام کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھ چکیں دشمن کے سامنے چلے جائیں اور سلام نہ پھیریں اور وہ لوگ چلے آئیں جہنوں نے نماز نہیں شروع کی اب وہ لوگ امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھیں پھر امام سلام پھیر دے اور باری باری ہر ہر گروہ کے لوگ آکر ایک ایک رکعت اور پڑھ کر نماز اپنی تمام کریں تاکہ ہر ایک گروہ کی دو دو رکعتیں ہو جائیں اور اگر خوف بہت سخت ہو تو کھڑے کھڑے پیادے نماز پڑھ لیں اشارے سے اور سوار سواری پر اگرچہ منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ ہو ۔

Sahih Lighairihi
444

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نماز نہیں پڑھی جنگ خندق میں یہاں تک کہ ڈوب گیا آفتاب۔