Sunan Abu Dawud
3003
Sahih+3

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم مسجد میں تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لے آئے اور فرمانے لگے: یہود کی طرف چلو ، تو ہم سب آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ یہود کے پاس پہنچ گئے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پکار کر کہا: اے یہود کی جماعت! اسلام لے آؤ تو ( دنیا و آخرت کی بلاؤں و مصیبتوں سے ) محفوظ ہو جاؤ گے ، تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پھر یہی فرمایا: «أسلموا تسلموا» انہوں نے پھر کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہی مقصد تھا ، پھر تیسری بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور مزید یہ بھی کہا کہ: جان لو! زمین اللہ کی، اور اس کے رسول کی ہے ( اگر تم ایمان نہ لائے ) تو میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کر دینے کا ارادہ کرتا ہوں، تو جو شخص اپنے مال کے لے جانے میں کچھ ( دقت و دشواری ) پائے ( اور بیچنا چاہے ) تو بیچ لے، ورنہ جان لو کہ ( سب بحق سرکار ضبط ہو جائے گا کیونکہ ) زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ہے ۔

SahihAl-Albani
SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid